دو مختصر کیس پیش خدمت ہیں۔ ان دونوں کیسز میں ڈاکٹر سہگل کے مائنڈ تیکنیک کاری پر دوا کا انتخاب کیا گیا۔
رزلٹس ؟ حیرت انگیز و ناقابل یقین۔ آج پہلا کیس ملاحظہ فرمائیں۔
پہلا کیس ۔۔۔۔
یہ ایک سول جج ہیں۔ ہمارا پرانا مریض جو ان کا بھی عزیز ھے انہیں ہمارے کلینک کھینچ لایا ورنہ ان لوگوں کو تو ویسے ہی بہت ساری سہولتں مفت میں میسر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ بعض مصلحتوں کے تحت رپورٹس بھی یہاں نہیں پیش کی جا رہی۔
ان صاحب کو دائیں گردے میں پتھری تھی۔ چند روز قبل دوران عدالتی کاروائی کے دوران ہی ان کو اچانک گردے کے مقام پر شدید درد اٹھا اور فوری طور پر اپنے سرکاری ڈاکٹر سے رجوع کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے درد کا انجکشن دے کر رخصت کر دیا ۔اس وقت انہیں جلدی ہی آرام گیا ۔
لیکن آدھی رات کو اچانک پھر گردے میں درد کا حملہ بہت شدت سے ہوا۔ یہاں تک کہ پیشاب بھی رک رک کر آنے لگا۔
ایمرجینسی میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں انہیں داخل کر لیا گیا ۔مختلف ٹیسٹ ہوئے۔ رات بھر ڈرپس اور انجیکشن کا علاج رہا ۔
الٹرا ساونڈ ہوا تو معلوم ہوا کہ دائیں گردے میں پتھری ہے ۔
اگلی صبح انہوں نے ایک اور لیبارٹری سے پرائیویٹ الٹرا ساونڈ کرایا تو انہوں نے بھی کنفرم کر دیا کہ دائیں گردہ میں سٹون ھے ۔ سرجن نے سرجری کا مشورہ دیا کہ ابھی تو درد انجکشن سے ٹھیک ھے لیکن یہ پھر ہو سکتا ھے۔ جج صاحب نے سرجری کے مشورہ پر کان نہ دھرا اور مزید اگلے دو دن میں اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہو گئے ۔
ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ درد کا حملہ ایک بار پھر شدت سے ہو گیا لیکن اب کی بار اس میں پہلے جیسی تیزی نہ تھی ۔محض پین کلر گولی کھا کر ہی آرام آ گیا ۔ جج صاحب نے سنجیدگی سے سرجری کے متعلق سوچنا شروع کر دیا ۔
اس سے پہلے کہ وہ آپریشن کروا لیتے؛ ان کے یہ عزیز ہمارے کلینک لے آئے۔
جب مریض میرے سامنے بیٹھا تو ہنستے ہوئے بولا کہ کیا ہومیوپیتھک دوا سے ان کا کڈنی سٹون بغیر آپریشن سرجری نکل جائے گا ۔
انہوں نے اس بات کو اسی ایکسپریشن سے ایک بار پھر دھرایا ۔
ان سے سوال کیا کہ اس پرابلم سے ان کی زندگی میں کیا رکاوٹ ھے ۔۔۔ جواب آیا کہ درد ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ بس اس سے ہی تنگی ہے ۔
پوچھا گیا کہ آپ کو کوئی ڈر، خوف،پریشانی؟ فرمایا کئے کہ سرجن نے آپریشن کا کہا ھے لیکن مجھے اس کا کوئی ڈر خوف نہیں، یہ میرے مہربان پکٹر کر آپ کےپاس لے آئے کہ آپ
کےہاں بغیر آپریشن گردے کی پتھری نکل جاتی ھے ۔۔۔ کیا یہ پتھری نکل جائے گی۔۔۔۔۔۔میرا درد کنٹرول میں رھے گا؟
انہیں بتایا کہ علاج کی حیثیت ایک سبب اور کوشش کی سی ھے شفا منجانب اللہ ہے۔
جج صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے علاج سے پتھری بھی نہ نکلے اور گردے کا کوئی اَور مسئلہ کھڑا ہو جائے۔
محض اسی گفتگو کی روشنی میں ریپرٹری سے مریض کے ایکسپریشن اور بولے گئے جملوں سے سے روبرک () ماینڈ چیپٹر سے جوڑے گئے ۔۔۔ جو ہومیوپیتھک دوا سامنے آئی وہ بیلاڈونا ہے۔