ہومیوپیتھک کیس ٹیکنگ میں مشاہدہ Body language


باڈی لینگویج
کیس ٹیکنگ میں مشاہدہ کی بہت اہمیت ہے۔ اس بات پر غور کریں کہ مریض کیا کرتا ہے اور کیا کہتا ہے۔ مثلاً باڈی لینگوئج  کو ہی لے لیں۔ برائی اونیا کا مریض بے حس و حرکت لیٹا ہو گا۔ سوالات کے جواب دینے سے گریز کرے گا۔
کالوسنتھ یا میگنیشیا فاس کا مریض ہو گا تو آگے کو دہرا ہوا ہو گا۔
جیلسی میم کا مریض ہو گا تو نقاہت اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی ہو گی۔ شکایت کوئی بھی ہو اگر علامات میں نقاہت بھاری ہو تو جیلسی میم کو کبھی نہ بھولیں۔
نکس وامیکا کا بیوروکریٹک رویہ آپ محسوس کریں گے۔ علامات بیان کرے گا تو انتہائی نفاست اور ترتیب سے۔  نکس وامیکا اور آورم میٹ کا اندازِ حکمرانی نمایاں ہوتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا بعض مریض کلینک میں آکر بیٹھ جائیں گے اور جب تک آپ اُن سے مخاطب نہ ہوں وہ بات چیت میں پہل نہیں کرتے۔ مثلاً نیٹرم میور، آورم میٹ، برائٹا کارب، برائی اونیا، سیپیا، سلیشیا وغیرہ۔
لیکن آرسینکم ایلبم اور ارجنٹم نائیٹریکم سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ ویٹنگ روم میں بیٹھے کئی بار اٹھ  کر ڈاکٹر کے کمرے میں جھانکنے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ بعض اوقات تو دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی باز نہیں آتے۔ آرسینکم البم کا رویہ اکثر اوقات ڈاکٹر کو ڈسٹرب کر دیتا ہے جبکہ فاسفورس اور کارسی نوسن پر بے اختیار پیار آتا ہے۔ جب پلساٹیلا یا پلاٹینا آئے گی تو یہ جملہ ضرور کہے گی ’’ڈاکٹر صاحب! میں بڑی امیدیں لے کر آئی ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میں آپ کی دواؤں سے ٹھیک ہو جاؤں گی‘‘۔

مشاہدے میں باڈی لینگویج کی بڑی اہمیت ہے۔
ڈروتھی سیفرڈ  نے اپنی کتاب میں دو بچوں کے حوالے سے ایک کیس کا ذکر کیا ہے۔
ایک ماں ٹانسلز حوالے سے اپنے دو بچوں کو میرے پاس لائی۔ جونہی وہ خاتون میرے کلینک میں داخل ہوئی تو میں نے دیکھا ایک بچی جس کو اس نے اٹھایا ہوا تھا وہ چِلائے جا رہی تھی اور ٹانگوں اور بازوؤں سے ماں کو مارتی جا رہی تھی۔ دوسری جو ساتھ چل رہی تھی وہ ماں کی ٹانگوں سے چمٹی ہوئی تھی اور اندر داخل نہیں ہونے دے رہی تھی۔
بڑی مشکل سے اس خاتون نے مینیج کیا اور جب میں نے بچی کو سٹیتھ لگایا تو چیختے چلاتے ہوئے اس نے ہاتھ مارا اور سٹیتھ دور جا گرا۔
بچوں کا چڑچڑا پن اور ضدی پن اور چیزوں کو توڑنا پھوڑنا ٹیوبرکولینم کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
میں نے ایک بار ایک برائٹا کارب بچے کو اس کا گلا چیک کرنے کیلئےمنہ کھولنے کو کہا۔ اس دوران جونہی بچے نے منہ کھولا میں نے ٹارچ تلاش کرنے کیلئے اِدھر اُدھر دیکھا تو مجھے ٹارچ نہیں ملی۔ تاہم ٹارچ تلاش کرنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ اور آپ حیران ہوں گے کہ جتنی دیر مجھے ٹارچ تلاش کرنے میں لگی بچہ اسی طرح منہ کھولے کھڑا رہا۔ مٹی کے مادھو۔ یہ ہے برائٹا کارب کی نشانی
ایسے بچوں کو جب میں وزن کرنے والی مشین کے اوپر کھڑا کرتا ہوں؛ جب تک انہیں باقاعدہ وہاں سے پُش کر کے ہٹایا نہ جائے وہیں کھڑے رہتے ہیں۔
اب جب ہم نے ٹیوبر کولینم کی ضد کا ذکر کیا وہاں سلیشیا کی ضد پر بھی غور کریں۔
ٹیوبرکولینم یا کیمومیلا ضد میں آکر جتنی چیخ و پکار، شور شرابہ اور توڑ پھوڑ کرتے ہیں؛ سلیشیا اس کے برعکس گم صم ہو کر اپنی ضد پر ڈٹ جاتے ہیں۔ سلیشیا اور نیٹرم میور کی ضد یا پریشانی کا ماں کو گھنٹوں پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔

سلیشیا کو ریپرٹری میں لکھا گیا ہے Obestinate and head strong remedy ۔
کہا جاتا ہے کہ سنو سب کی اور کرو اپنی۔ سلیشیا کا مریض ایسے ہی ہوتا ہے۔ سلیشیا کا بچہ جب بہت چھوٹا ہوتا ہے تو ضد میں آ کر جب کچھ نہیں کر سکتا تو اپنے سر کو فرش پر یا زمین پر مارتا رہتا ہے۔
(ڈاکٹر بنارس خان اعوان کے لیکچر سے اِقتباس)

kaisrani

kaisrani

Leave a Replay

About Me

Hussain Kaisrani (aka Ahmad Hussain) is a distinguished Psychotherapist & Chief Consultant at Homeopathic Consultancy, Lahore. 

Recent Posts

Weekly Tutorial

Sign up for our Newsletter